بُوجھو توجانیں-----
کُچھ کُچھ سُوکھا کُچھ کُچھ گیلانرم نرم اور ڈِھیلا ڈِھیلابِن چاقو کے اِسں کو چھیلا سیب کیلا تربوزہ بےشک ہو نہ ہاتھ میں ہاتھچلتاہےوہ آپ کے ساتھ سایہ درخت باغ بند آنکھوں نے جو دکھلایاکھولی آنکھ توغائب پایا دن رات خواب تن کی لمبی سر کی چھوٹیکر دے سب کی بوٹی بوٹی نیزہ چھری رسی ِاک شےجب بھی ہاتھ میں آئےپانی پی پی کےگُھلتی جائے برش جالی صابن مَٹی سے نکلی ہے گوریسرپہ ہرےپتوں کی بوری مولی امرود لوکاٹ